تعلیمی سال کی تبدیلی: ایک ضروری نظر
نیا تعلیمی سال – اپریل سے جون تک
گزشتہ چند مہینوں سے اعلان کیا جا رہا تھا کہ نیا تعلیمی سال یکم اپریل سے شروع ہوگا۔ حکومت نے CBSE پیٹرن کو اپنانے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا تھا۔ لیکن اب اچانک اعلان ہوا کہ تعلیمی سال جون سے ہی شروع ہوگا۔ آخر یہ فیصلہ کیوں بدلا گیا؟
اچانک تبدیلی: الجھن یا بہتری؟
اس اچانک تبدیلی سے طلبہ، والدین اور اساتذہ میں کنفیوژن پیدا ہو گیا کہ اسکول کب کھلیں گے۔ کیا یہ فیصلہ تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے تھا یا پھر انتظامی کمزوری کا نتیجہ؟
CBSE پیٹرن کی طرف قدم
ریاست میں انگلش میڈیم اور CBSE پیٹرن والے اسکولوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مراٹھی میڈیم اسکولوں کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے، حکومت نے CBSE نصاب کو اپنانے کا فیصلہ کیا تاکہ تعلیمی معیار کو قومی سطح پر بہتر بنایا جا سکے۔
CBSE کیلنڈر کے مطابق تعلیمی سال؟
CBSE اسکولوں کا تعلیمی سال اپریل میں شروع ہوتا ہے۔ اسی ماڈل کو اپنانے کے لیے ریاست نے فیصلہ کیا کہ سرکاری، نجی اور گرانٹ یافتہ اسکول بھی اپریل سے اپنا تعلیمی سال شروع کریں گے۔ 2024 میں اس وقت کے وزیر تعلیم دیپک کیسَرکَر نے اعلان کیا تھا کہ اسکولوں کا کیلنڈر CBSE اسکولوں کے مطابق بنایا جائے گا۔
منصوبہ بندی یا جلد بازی؟
یہ فیصلہ قومی تعلیمی پالیسی (NEP 2020) کے تحت لیا گیا تھا، اور 2027-28 تک اس پر مکمل عمل درآمد ہونا تھا۔ لیکن اچانک یہ فیصلہ کیا گیا کہ 2025 سے ہی اس پر عمل شروع کیا جائے، جس کے لیے مکمل تیاری نہیں کی گئی تھی۔
فیصلہ واپس کیوں لیا گیا؟
1. نصابی کتب کی عدم دستیابی
تعلیمی سال کی تبدیلی کے لیے سب سے اہم چیز نصابی کتابیں تھیں، لیکن بال بھارتی کو وقت پر ہدایات نہیں دی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کتابیں وقت پر نہیں چھپ سکیں، اور حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا۔
2. تمام فریقین کو شامل نہ کرنا
اساتذہ، طلبہ، والدین اور اسکول انتظامیہ کو اس فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ جب ان فریقین کو تیار کرنے کا وقت آیا، تو اندازہ ہوا کہ سب کے لیے اچانک تبدیلی مشکل ہوگی۔
3. عملی مشکلات
اساتذہ کی کمی، انفراسٹرکچر کے مسائل اور دیگر تعلیمی چیلنجز پہلے سے موجود تھے۔ ایسے میں تعلیمی سال میں تبدیلی مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی تھی۔
کیا اب بھی تبدیلی ممکن ہے؟
حکومت کا مقصد طلبہ کے لیے معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے، لیکن اس کے لیے محض کیلنڈر بدلنا کافی نہیں۔ بنیادی سہولیات، اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی وسائل پر توجہ دینا ضروری ہے۔
اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟
اگر تعلیمی سال بدلنا ہے، تو اس کی مکمل منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔
طلبہ، اساتذہ اور والدین کو پہلے سے تیار کیا جانا چاہیے۔
نصابی کتابوں اور انفراسٹرکچر کی دستیابی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تعلیمی سال کی تبدیلی سے واقعی کوئی فائدہ ہوگا، یا یہ محض ا
یک غیر ضروری تجربہ ثابت ہوگا؟ اپنی رائے کا اظہار کریں!
Comments
Post a Comment
Write us your question, suggestions, experience etc